جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا سرغنہ، راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ سے تعلق رکھنے والا آرمی میڈیکل کور کا سابق سپاہی محمد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان پرویز مشرف پر حملے کی منصوبہ بندی اور دہشت گردی کے کئی سنگین واقعات ملوث ہونے سمیت لاہور میں سری لنکاکی کرکٹ ٹیم پر حملے کا منصوبہ ساز بھی ہے جسے بالآخر گرفتار کر لیا گیا ۔لاہور حملے کے بعد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور اس کے ساتھی گرفتاری سے بچنے کیلئے وزیر ستان فرار ہوگئے تھے ۔ڈاکٹر عثمان کا تعلق پنجابی تحریک طالبان سے ہے ۔یہ تنظیم تین چار سال پہلے قائم کی گئی اور اس کے بیت اللہ محسود سے قریبی تعلقات تھے ۔ 18 جون کو سری لنکن ٹیم پر حملے میں ملوث پنجابی طالبان تحریک کے رکن زبیر عرف نیک محمد کو گرفتار کیا گیا تھا جس نے عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کے متعلق انکشاف کیا تھا ۔ادھر جی ایچ کیو پر حملے کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے نمونے حاصل کر لئے گئے ۔پاکستان کے نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق دہشت گردوں کی شناخت کی غرض سے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے جی ایچ کیو پر حملے کے دوران سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں ۔ اور ان کی تصاویر اور فنگر پرنٹس بھی نادرا کو بھیجے جا رہے ہیں۔اس سے قبل ترجمان آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردوں نے 22یرغمالیوں کو ایک کمرے میں رکھا ہوا تھا جہاں ایک خودکش حملہ آور موجود تھا ۔ کمانڈوز کیلئے سب سے پہلی ترجیح اس کمرے میں داخل ہوکر خودکش حملہ آور کو نشانہ بنانا تھا تاکہ یرغمالیوں کو بچایا جاسکے ، یہ ہدف کامیابی سے حاصل کیا گیا ۔ تاہم اس دوران خودکش حملہ آور کے ساتھیوں کی فائرنگ سے تین یرغمالی شہید ہوگئے جن میں ایک نائب قاصد اور ایک سروئیر بھی شامل ہیں ۔آپریشن کے دوران عمارت میں وقفے وقفے سے تین دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے عمارت پر قبضہ کرنے کے بعد کئی مقامات پر دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا تاکہ کوئی اندر داخل ہونے کی کوشش کرے تو ناکام رہے ۔تاہم کمانڈوز نے انتہائی سرعت اور مہارت سے کامیابی کے ساتھ آپریشن مکمل کرلیا ۔ اس دوران دو مقامات پر نصب دھماکا خیز مواد بھی ناکارہ بنایا گیا ۔ میجر جنرل اطہر عباس کے آپریشن اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے اور صورت حال مکمل طور پر فورسز کے کنٹرول میں ہے ۔ اپ ڈیٹ11،اکتوبر صبح 8 بجے جی ایم ٹیجی ایچ کیومیں یرغمالیوں کی بازیابی کیلئےکمانڈو آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیاگیا ہے۔ایس ایس جی کے کمانڈوز نےآپریشن کے دوران انتالیس یرغمالی بازیاب کرالئے گئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ آپریشن علی الصبح شروع ہوا اور فوج کی کامیاب حکمت عملی سے انتالیس یرغمالیوں کو بحفاظت بازیاب کرالیا گیا۔ جبکہ کارروائی میں چار دہشت گرد مارے گئے۔دہشت گردوں کے پاس خودکش جیکٹیں ، ہینڈ گرینیڈ، بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیزمواد سمیت جدید رائفلیں بھی موجود تھیں۔ کارروائی میں تین یرغمالی بھی جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔کمانڈوز نے ایک دہشت گرد کو زخمی حالت میں گرفتارکیا ہے جس نام عقیل بتایا جاتا ہے۔جو دہشت گردوں کا سرغنہ تھا۔گزشتہ روز دہشت گردوں نے جی ایچ کیو میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پرفائرنگ کے تبادلے میں پانچ دہشت گرد ہلاک اور دو افسران سمیت چھ سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ادھر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے آرمی چیف جنرل کیانی کو فون کرکے جی ایچ کیو پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کے خاتمے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کامیاب آپریشن پر آرمی چیف کو مبارکباد دی؛ انہوں نے افسران اور اہلکاروں کے جاں بحق ہونے پر آرمی چیف سے اظہار تعزیت کیا اورکہا کہ پاک فوج نےکم وقت میں دہشت گردوں پرقابو پالیا جس پر پوری قوم انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔دوسری جانب چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید نے بھی وزیراعظم ہاؤس میں وزیر اعظم سید یوسف رضاگیلانی سے ملاقات کی اور حالیہ صورتحال پر بات چیت کی۔اپ ڈیٹ سات بجے شام جی ایم ٹیآئی ایس پی آر کے ڈائریکٹرجنرل میجر جنرل اطہر عباس کاکہنا ہے کہ دہشت گردوں نے دس سے پندرہ سیکورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنارکھا ہے،دہشت گرد سیکورٹی آفس کی عمارت میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یرغمال سیکورٹی اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی ترجیح ہے، گھیرے میں لیے گئے دہشت گردوں کی تعدادچار سے پانچ ہے۔ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز کی یونیفارم پہنے ہوئے ہیں اور ان کے پاس ممکنہ طور پر دھماکہ خیز مادہ بھی ہے۔اطلاعات کے مطابق پاکستان کے کچھ نجی ٹی وی چینل کچھ دیر کے لیئے بند رہے لیکن اب انکی نشریات بحال ہو چکی ہیں۔اپ ڈیٹ دو بجے دوپہر جی ایم ٹیایوان صدر اسلام آباد میں ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت کے اجلاس میں وزیرستان میں آپریشن کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے جبکہ آپریشن کے وقت اور حکمت عملی کا مکمل اختیار آرمی چیف کو دیدیا گیا ہے.جی ایچ کیو حملے کے بعد ایوان صدر میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں صدر مملکت آصف علی زرداری،وزیر اعظم سیدیوسف رضا گیلانی،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا شریک ہوئے۔اطلاعات کے مطابق اجلاس کا ایجنڈے میں جی ایچ کیو پر ہونے والا حملہ اور وزیر ستان آپریشن سرفہرست تھے۔اجلاس میں وزیرستان آپریشن کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا۔اجلاس سے پہلے وزیر اعلیٰ سرحد امیر حیدر ہوتی نے آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی، جس میں وزیرستان میں فوجی آپریشن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جبکہ سرحد میں امن و امان کی صورتحال اور کیری لوگر بل بھی زیرغور آیا۔اس سے قبل پاکستان کے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد سے ملحقہ جڑواں شہر راولپنڈی میں فوج کے ہیڈکوارٹرز پر نامعلوم دہشت گردوں اور فوجیوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں بریگیڈئر اور لیفٹیننٹ کرنل سمیت چار فوجی جوان شہید جبکہ چار حملہ آور ہلاک ہو گئے۔ چالیس منٹ تک ہونے والی دو طرفہ فائرنگ میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ادھر تحریک طالبان امجد فاروقی نامی گروپ نے جی ایچ کیو پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر میجر جنرل اطہر عباس نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ فوجی کمانڈوز یونیفارم میں ملبوس نامعلوم افراد جی ایچ کیو کے داخلی راستے پر گاڑی میں سوار ہو کر پہنچے، جب انہیں تلاشی کے لئے روکا گیا تو انہوں نے چیک پوسٹ پر موجود فوجیوں پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں فوجیوں نے بھی فائرنگ کر دی۔"کمانڈو یونیفارم میں ملبوس ہونے کی وجہ سے جی ایچ کیو کی حفاظت پر مامور گارڈز کو صحیح طور پر اندازہ نہیں ہو سکا کہ حملہ آور کون ہیں؟"درایں اثنا پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے فوجی چوکی پر ہینڈ گرینڈز بھی پھینکے ہیں۔ فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹر جی ایچ کیو اور اس سے ملحقہ چھاونی کے علاقے میں نچلی پروازیں شروع کر دیں۔واقعے کے بعد مسلح افواج کے ہیڈکوارٹرز کو جانے والے تمام راستوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ جی ایچ کیو کی عمارت سے بھی کسی اہلکار کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔جی ایچ کیو کا یہ علاقہ انتہائی حساس شمار کیا جاتا ہے اور عام حالات میں بھی یہاں پر سیکورٹی انتہائی سخت رہتی ہے۔ واقعے کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ آس پاس کی دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہو گئے
ایک دہشت گرد حملے کی فوٹیج: